عبادات میں محبت کی اہمیت
دین ِ اسلام نے تمام عبادات کی غایت محبت کو بتلایا ہے،کیونکہ محبت کے بغیر…




’ثوب‘ عربی زبان کا مصدر ہے جس کے معنی کسی جگہ سے چلے جانے کے بعد اُسی جگہ واپس لوٹنا ہوتے ہیں۔اس میں تسلسل اور باقاعدگی کا عنصر پایا جاتاہے۔پنڈولم والی گھڑی اس کی بہترین مثال ہے،جس میں پنڈولم اپنے مرکز کے گرد گھوماکرتا ہے،اور ہر دفعہ شکرانہ کےلئے مرکز پر لوٹتا ہے۔’مثابۃ‘ اس مصدر سے مفعول ہےجو کسی مکان،جگہ یا منزل کی طرف اشارہ ہے جہاں باقاعدہ آمدورفت رہے۔چونکہ گھروں سے روزانہ نکل کر تلاش معاش کے لئے جایا جاتاہے اور رات گئے واپس لوٹ کر وہیں آرام کیا جاتاہے،تاکہ اگلی صبح پھر سفر شروع ہو،اس لئے گھروں کو بھی مثابۃ کہہ لیتے ہیں۔
آپ کے والد برطانیہ نژاد انگریز تھے جب کہ آپ کی والدہ محترمہ فرانسیسی نژاد تھیں اور دونوں مذہب کے لحاظ سے عیسائی تھے۔ آپ والدین کے اکلوتے صاحبزادے تھے اور آپ کا نام ایلئٹر رکھا گیا تھا۔
‘ایلاف حافظ سائیں محمداقبالؒ ‘ کی بنیاد ۲۰۱۰ ء میں رکھی گئی تھی،جو دراصل چاہنے والوں کی محبتوں اور عقیدتوں کو نذرانہ پیش کرنے کی سعادت تھی -اس پلیٹ ف
آپ کے آباء و اجداد صدیوں سے علاقہ باغبان پورہ لاہور میں آباد تھے۔آپ کے والد محترم کا نام ابراہیم تھا اور وہ محکمہ ریلوے کے اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ میں ملازم
دین ِ اسلام نے تمام عبادات کی غایت محبت کو بتلایا ہے،کیونکہ محبت کے بغیر…
شہودی کائنات کا وجود عناصر کے تابع ہے ۔ہر عنصر بے شمار و لاتعداد چھوٹے…
محبت معاشرتی زندگی کی بنیادی اثاث ہے۔یہ اس ستون کی مانند ہےجس پر معاشرہ کی…
Lorem ipsum dolor sit amet
Lorem ipsum dolor sit amet
عبادت کا وصف ذاتی فعل ہوتا ہے، اس لیے عبادات نفس کی معرفت کا راستہ دکھا کر، وجود کے ظاہر کو آراستہ کرتے ہیں۔
ایلاف، الفت کی بنیاد پر مانوس و مشترک ہو کر اس طرح عہدو پیمان کرنا ہوتا ہے کہ ایک فریق دوسرے میں پیوست ہوتا محسوس ہو۔ یہ بمنزلہ مشترکہ تجارت کے ہے۔ ہم آہنگی اس کا سرمایہ ہوتا ہے اور اطمینان و سکونِ قلب اس کا ماحاصل۔ اسے ” تِجَارَۃ لن تبورَ” کہا گیا ہے۔ ایسا اگر پی کے سنگ ہو جائے تو بخت آوری کہلائے گی۔
ایلاف ‘پی کے رنگ’ آپ کے ہاتھوں میں ہے جس کی جلد کا رنگ سفید مقرر ہو گیا ہے۔ جب ہم ‘پی کے سنگ’ تھے تو وجودی اتحاد کی بنیاد پر تمام رنگ حالت جذب میں تھے، لہذا ‘پی کے سنگ’ کی جلد سیاہ رنگ ہو گئی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ جہاں سب رنگ مجتمع ہو جائیں وہ سطح سیاہ نظر آتی ہے۔ اور اگر تمام رنگ پھیل کر کائنات میں ضیا پاشی کریں تو ہر طرف نور کی سفیدی بکھر جاتی ہے، اس لئے ‘پی کے رنگ’ کو سفیدی مائل جلد میسر آ گئی ہے۔ ہونے کو روشنی سات رنگوں کی قوس قزح ہی ہے، جذب ہو جائے تو سیاہ اور منعکس ہو کر پھیل جائے تو سفید ہو جاتی ہے، جبکہ کسی پاکیزہ وجود میں سے گزرتے ہوئے اگر عمل انعطاف میسر آجائے تو ساتوں رنگ الگ الگ بھی نظر آسکتے ہیں۔