Eelaafhmi

مختصر تعارف

محمدؐ رسول اللہ کے طبعی پردہ اور مدینہ منورہ میں ابدی نشان بننے کے بعد جب آپؐ کے داماد علیؑ المرتضیٰ بن ابو طالبؑ کومسند خلافت میسّر آئی تو انہوں نے سب سے پہلے اسلامی حکومت کا دارالخلافہ مدینہ کی بجائے کوفہ ،بغدادشہر میں منتقل کروایا جو آج کل ملک عراق کا صدر مقام ہے ۔اس تبدیلی کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ حضورؐ کے نشان سے دور ہوکر آپؐ کے پیغام کی بہتر ترویج ممکن تھی ۔ باب العلمؑ اس حقیقت سے آشنا تھے کہ جس مرکز سے باطن کی راہنمائی ہوتی ہے وہاں روزمرہ کے ظاہرہ دنیاوی کاموں کی ملاوٹ و آمیزش خوش آئند نہیں ،لہذا دور رس نتائج حاصل کرنے کےلئے ایسا قدم اٹھانا ضروری ہوتا ہے ۔ معلوم ہوا اپنے مربّی کے ابدی نشان سے زمینی فاصلہ کی دوری اختیار کرنا سنتِ علویؑ ہے۔

کردارِ علویؑ کی اکثر کرنیں اسی سنت کے تحت دور دراز علاقوں کی طرف پھیل گئیں،جہاں آج بھی اُن کے نشانات موجود ہیں ۔ سلسلہ عالیہ اوّل قادر قلندر کی داغ بیل وصیؑ ِ رسول نے خود ڈالی اور سیدنا ابو ذرؑ غفّاری کی وساطت سے اس کی ترویج کی ۔اُن کا فیض حبیب ؒ بن سلیم الراعی العجمی کو میسّرآیا تو وہ ملک روس کی طرف کوچ کر گئے۔داؤدؒ طائی نے بغداد ،عراق میں سکونت اختیار کی تو اُن کے بعد معروف ؒالکرخی ملک فارس کی طرف ہجرت کر گئے۔شیخ سریؒ سقطی اور شیخ الاسلام جنید ؒالبغدادی خاص حکمت کی وجہ سے ایک ہی جگہ قیام پذیر رہے۔ابوالفضل محمدؒ بن الحسن خطلی ملک شام میں گوشہ نشین رہے تو علیؒ الہجویری کو بر صغیر میں لاہور جاکر پڑاؤ کا حکم دیا۔ سلطان امیرؒ شہر ملتان میں آرام فرما رہے ہیں مگر بھاٹی دروازہ لاہور میں پیدا ہونے والے اپنے جانشین سیدغلام علی شاہؒ ، المعروف کلہاڑے شاہ کو پیغام سنانے کےلئے کشمیر کی طرف بھجوا دیا۔سید غلام علی شاہؒ صاحب نے سید غلام محمدؒصاحب کو فیضیاب کرکے ملک کینیا کے شہر نیروبی جانے کا اشارہ دیا۔جب باباسائیں حسن الدینؒ کو سید غلام محؒمدصاحب سے خلعت مِل گئی تو انہیں شہر لاہور کی طرف رُخ کا پیغام دیا گیا، جہاں انہوں نے اوّل قادر قلندر فیض حافظ سائیں محمد اقبالؒ کی جھولی میں ڈالا۔

یاد رہے باباسائیں حسن الدینؒ ملک برطانیہ کے شہر برمنگھم میں پیدا ہوئے تھے،وہاں سے نیروبی ،کینیا لیجائے گٔے اور آخر کا ر اُن کے لاہور پہنچنے کا سامان کیا گیا۔حافظ محمد اقبالؒ جدی طور پر باغبان پورہ لاہور کے رہائشی تھے اور زندگی بھر سنتِ مصطفویؐ کے مصداق شہر لاہور سے دور نہ گٔے ۔مگریہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ باباسائیں ؒ نے حافط محمد اقبالؒ کو اوّل قادر قلندر فیض عطا کرنے کےلئے بہت طویل مسافت کی۔ جب وہ دونوں ہستیاں شیر و شکر ہوگئیں ،تو انہوں نے اپنی ابدی آرام گاہ کے لئے ایک مشترکہ احاطہ چُن لیا۔زمانہ ماضی میں سلسلہ عالیہ اوّل قادر قلندر کے کوئی دو بزرگان کہیں ایک حاطہ میں مدفون نہیں ہوئے۔یہ خاص اعزاز اِن دو ہستیوں کا نصیب ہوا۔ بابا سائیںؒ نے جہاں چودھویں صدی ہجری کی ابتداءکا زمانہ پایا تو وہیں حافظ سائیں محمد اقبالؒ کے ساتھ چودھویں صدی ہجری کا اختتام ہوگیا۔دونوں بزرگان کے ابدی سنگم کی یہ بھی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔

حافظ سائیںؒ اپنی تمام حیات میں باباسائیںؒ کے پیغام کی ترویج اپنے انداز و الفاظ میں کرتے رہے،مگر انہوں نے اکثر ملنے والوں کو کبھی باباسائیںؒ کے نشان کی بابت خبر نہ دی۔امکان غالب ہے کہ اس کے پیچھے یہی حکمت کار فرما ہوگی کہ مربّی کے نشان سے دوری ،پیغام کی بہتر ترویج کا سبب ہوتی ہے۔حافظ سائیں محمد اقبالؒ کے پردہ کے بعد تاحال کوئی اُن کی جانشینی کا دعویٰ دار نہیں ہواہے،مگر اُن کے چاہنے والے اُن کے پیغام کی ترویج کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔اسی سلسلہ کی ایک کڑی ’’مثابۃ ایلاف حافظ سائیں محمد اقبالؒ‘‘ کی بناء ہے۔شہر لاہور کے شمال مشرقی حصہ میں چودہ کنال زمین کا ایک قطعہ خریدا گیا،جہاں مرکز سے کچھ دوری کا فائدہ لینے کے علاوہ بہتر اور وسیع انداز میں اوّل قادر قلندر پیغام کی ترویج کا کام شروع کیا گیا اور بحمدللہ چند برسوں میں خاطر خواہ نتائج سامنے آئے ہیں۔ احاطۂ دربار میں صرف ادب کا پہلو ملحوظِ خاطر رکھنا بہت مشکل ہوجایا کرتا ہے،چہ جائیکہ بے فکری کا ماحول پیدا کرکے نئے آنےوالے لوگوں کی اصلاح کا کام کیا جاسکے۔

حافظ سائیںؒ اپنی تمام حیات میں باباسائیںؒ کے پیغام کی ترویج اپنے انداز و الفاظ میں کرتے رہے،مگر انہوں نے اکثر ملنے والوں کو کبھی باباسائیںؒ کے نشان کی بابت خبر نہ دی۔امکان غالب ہے کہ اس کے پیچھے یہی حکمت کار فرما ہوگی کہ مربّی کے نشان سے دوری ،پیغام کی بہتر ترویج کا سبب ہوتی ہے۔حافظ سائیں محمد اقبالؒ کے پردہ کے بعد تاحال کوئی اُن کی جانشینی کا دعویٰ دار نہیں ہواہے،مگر اُن کے چاہنے والے اُن کے پیغام کی ترویج کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔اسی سلسلہ کی ایک کڑی ’’مثابۃ ایلاف حافظ سائیں محمد اقبالؒ‘‘ کی بناء ہے۔شہر لاہور کے شمال مشرقی حصہ میں چودہ کنال زمین کا ایک قطعہ خریدا گیا،جہاں مرکز سے کچھ دوری کا فائدہ لینے کے علاوہ بہتر اور وسیع انداز میں اوّل قادر قلندر پیغام کی ترویج کا کام شروع کیا گیا اور بحمدللہ چند برسوں میں خاطر خواہ نتائج سامنے آئے ہیں۔ احاطۂ دربار میں صرف ادب کا پہلو ملحوظِ خاطر رکھنا بہت مشکل ہوجایا کرتا ہے،چہ جائیکہ بے فکری کا ماحول پیدا کرکے نئے آنےوالے لوگوں کی اصلاح کا کام کیا جاسکے۔

’ایلاف حافظ سائیں محمداقبالؒ ‘ بنیاد

’ایلاف حافظ سائیں محمداقبالؒ ‘ کی بنیاد 2010ء میں رکھی گئی ،جو دراصل چاہنے والوں کی محبتوں اور عقیدتوں کو نذرانہ پیش کرنے کی سعادت تھی۔ ’ایلاف ‘ جلد ایک مستند اور فعال تحریک بن کر منظر عام پر آئی ،مگر اس کی پختگی کے باوجوداس کے مرکزی مقام کی کمی شدت سے محسوس کی جارہی تھی۔حالانکہ ’ایلاف‘ کا خیال سورۃ قریش سے ماخوذ ہے مگر حافظ سائیںؒ کی زندگی بھر کی عملی سوچ اس کا اصل محور رہی ہے۔ 2016ء میں جب متذکرہ بالا قطعۂ زمین ملکیت میں آیا تو دوستوں کے مشورہ سے اُسے باباسائیںؒ اور حافظ سائیںؒ کے پیغام کی حتی المقدور تشہیر کےلئے وقف کردیا گیا۔وہاں سالانہ عرس منعقد کروانے کےبنیادی فعل کے علاوہ ہر ہفتہ میں دو دفعہ درس و تدریس کا باضابطہ بندوبست کیا جاتا ہے۔اہم اسلامی اور مذہبی تہواروں پر خصوصی مجالس کا اہتمام کیاجاتاہے۔نوجوان نسل کو حقائق سے روشناس کروانے کی نظر سےاُن کی خصوصی دلجوئی کا خیال رکھا جاتاہے۔ہر سال رمضان المبارک میں تراویح کے بعد وقتِ سحر تک معارف ِ قرآن کی عام فہمی کےلئےلیکچرز کا انتظام کیا جاتاہے۔ایسے پروگرام محرم الحرام کے پہلے عشرہ میں بھی باقاعدگی سے منعقد کئے جاتے ہیں۔

    ہم سے رابطہ کریں۔