Eelaafhmi

مختصر حالاتِ زندگی:۔

آپ کے آباء و اجداد صدیوں سے علاقہ باغبان پورہ لاہور میں آباد تھے۔آپ کے والد محترم کا نام ابراہیم تھا اور وہ محکمہ ریلوے کے اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ میں ملازم تھے۔انہیں محکمہ کی طرف سے کورس کرنے کےلئے برمنگھم یونیورسٹی،برطانیہ بھجوایا گیا۔اُس زمانہ میں ابراہیم کی ملاقات  برمنگھم یونیورسٹی کے مکینیکل انجینیرنگ کے طالب علم ’مسٹر ایلفرڈ‘سے ہوئی،جو رہتی زندگی تک گہری دوستی میں بدل گئی۔وہ ایلفرڈ بعد میں بابا سائیں  حسن الدینؒ کے نام سے مشہور ہوئے۔ابراہیم کی اولاد میں افضال نام کا ایک بیٹا تھا جو1937 کے اوائل میں اللہ کو پیارا ہوگیا۔ابراہیم کو اکلوتے جوان بیٹے کی وفات کا قدرتی طور پر بہت دکھ تھا۔انہی دنوں بابا سائیںؒ نیروبی ،کینیا سے اپنے مرشد سید غلام محمدؒ کے حکم کے مطابق  برصغیر تشریف لاچکے تھے۔ دہلی شہر سے گجرات  جاتے ہوئے داتاغریب نوازؒ کے شہر لاہور میں قیام کیا تو یونیورسٹی کے پرانے دوست کو ملنے علاقہ باغبان پورہ تشریف لے گئے۔ابراہیم بھی پرانے رفیق کو اچانک دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور اُس کا پرتپاک خیر مقدم کیا، مگرجوان بیٹے کی جدائی کا غم چھپا نہ سکے۔

طالب علمی کے دور میں  حافظ جی تنو مند، جاذبِ نظر،خوش مزاج،گہری سبز آنکھوں والے داڑھی منڈھے فرد تھے۔خوش گفتار تو ہمیشہ ہی سے تھے آپ کا لباس بھی مروّجہ فیشن کے مطابق اور بہترین ہوا کرتا تھا۔اِن تمام خوبیوں کے پیچھے با با سائیںؒ کی محبت اور توجہ کارفرما تھی،جو مسلسل دیکھ بھال اور راہنمائی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔  آپ کی طبیعت میں ایک خاص گداز بچپن ہی سے تھا،   جو بابا سائیںؒ کی شفقت و عنایت کا ثمر تھا، اور یہی بالآخرحافظ محمد اقبال کو حافظ سائیں محمد اقبالؒ کا روپ دےگیا

دیرینہ دوست، ابراہیم کی آنکھوں کے آنسو دیکھ کر اور تمام حالات معلوم کرکے،حسن الدینؒ نے اُسے دلاسا دیا اور فرمایا  کہ اللہ جلد تمہیں ایک اور بیٹا عطا کرے گا،اُس کا نام اقبال رکھ دینا۔توفیق ایزدی سے اُس کی تربیت میں خود کروں گا۔قدرت کاملہ کی کرم نوازی  اور بابا سائیں ؒ کے فرمان کے مطابق ابراہیم کے گھر محمداقبال نے جنم لیا،مگر وہ تب ایک ہی برس کا تھا کہ یتیم ہوگیا۔چند برسوں بعد بابا سائیںؒ گجرات شہر سے مستقل طور پر  لاہور  منتقل ہوگئے اور علاقہ باغبان پورہ میں اُسی جگہ سکونت اختیار کی  جہاں آج کل آپ کا اور حافظ سائیں محمد اقبالؒ کا ابدی نشان ہے۔باباسائیںؒ نے محمد اقبال کو اپنی سرپرستی میں لے کرحفظ کروانے کے علاوہ ،پہلے گورنمنٹ کالج     ( حالیہ یونیورسٹی)، لاہور سے ایم۔اےانگریزی کروایا، اور پھر پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فلسفہ کےمضمون میں ایم۔اے   کروایا۔پھر آپ گورنمنٹ کالج (یونیورسٹی )لاہور کے شعبہ انگریزی میں  درس و تدریس سے منسلک ہوگئے ۔ 1968ءمیں جب بابا سائیں حسن الدینؒ کا پردہ ہوگیا،تو حافظ اقبالؒ کی زندگی میں واضح اور انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔

آپ نے اپنی زندگی محلہ مادھو لال حسین،باغبان پورہ ،لاہور میں اپنے آبائی گھر میں بسر فرمائی۔پیار کرنے والوں کے علاوہ اُن کے گھر کا دروازہ ہر ضرورت مند کے لئے ہمیشہ کھلا رہتا تھا۔لکڑی کی چھت سے بنے ہوئے بوسیدہ وخستہ حالت گھر  میں، صفائی کا یہ عالم ہوتا تھا کہ کسی ایک کونے میں بھی مٹی کا ذرّہ نظر نہ آتا تھا۔وسائل کی حد میں رہ کر صفائی کرنے اور کروانے کا خصوصی اہتمام کرتے تھے۔ جدّی حویلی کے اُن  دو کمروں میں جہاں حافظ جی نے وقت گزارہ کیا، باورچی خانہ کا تصور بھی نہیں تھا۔چائے بنانے کے لئے بہر طور مکمل مگر سادہ  انتظامات  موجود تھے،جو مہمان داری کے مقاصد کو پورا کرتے تھے۔

20 نومبر 2001ء،بمطابق 4 رمضان المبارک1422ھ بروز منگل ظہر کے وقت آپ اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے۔تب ماہ مگھر کی 5 تاریخ تھی اور  بکرمی سن 2058  تھا۔بابا سائیں کے دربار سے متصل باغ  کی مغربی سمت میں آپ  کا نشان بنایا گیا۔رسمِ چہلم  کے بعد 5 مئی 2002 ء کو  دوستوں کے مشترکہ فیصلہ سے دونوں اوّل قادر قلندر ہستیوں کے شایانِ شان مغلیہ طرزِ تعمیر کا دربار اُس احاطہ میں بنانے کا کام شروع کیاگیا۔دربار کا نقشہ ملک کے نامور آرکیٹیکٹ کامل ممتاز صاحب نےتجویز کیا اور اُس کی تعمیر کی ذمہ داری بھی نبھاتے رہے۔

مزاج حافظ سائیںؒ:۔

حافظ سائیں محمد اقبالؒ بنیادی طور پر رقیق القلب انسان تھے ۔والدِ محترم کو ہوش میں دیکھا ہی نہ تھا اور بیوہ والدہ  پر برادری والوں نے جو مظالم ڈھائے  اُن کی وجہ سے زندگی کی ابتداء تلخیوں میں ہوئی،جس کا اثر منطقی طور پر اُن کی ذات میں موجود تھا۔جدّی حویلی پر شریک قابض ہوگئےاور اُن کی والدہ کو کم عمر  بچوں سمیت  چھوٹے چھوٹے دو کمروں میں زندگی گزارنے پر مجبور کردیاگیا۔والدہ محترمہ بلند حوصلہ خاتون تھیں اس لئے انہوں نے زبانِ شکایت دراز کرنے کی بجائے رضائے ربّی کو قبول کرلیا اور اپنی استطاعت کے مطابق اکلوتے بیٹے کی تعلیم و تربیت شروع کی۔دنیاوی وسائل کی شدید کمی کے باوجود آپ نے حوصلہ نہ ہارااور آگے بڑھنے کی لگن برقرار رکھی۔بتایا کرتے کہ وہ سکول کی ابتدائی کلاسوں میں تھے جب باباسائیں حسن الدینؒ  مستقل طور پر لاہور تشریف لے آئے  اور ’ننھے اقبال‘ کو اپنی کفالت میں لےلیاتو حالات میں معمولی تبدیلی آئی۔

باباسائیں ؒ کے دستِ شفقت کے نتیجہ میں’ اقبال‘ نے  آٹھویں جماعت سے قبل قرآن حفظ کرلیا۔ازاں بعد میٹرک کا امتحان اعزازی حیثیت میں پاس کرکے گورنمنٹ کالج(یونیورسٹی) لاہور میں داخل ہوئے۔چند ہی سالوں بعد آپ نے یہاں سے   ایم –اے انگریزی  کیا  اور ایک سال کے قریب اسی جگہ مدرس کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔اسی دوران پنجاب یونیورسٹی لاہور سے پرائیویٹ طالب علم کی حیثیت سے فلسفہ میں ایم-اے  کا امتحان بھی پاس کرلیا۔ اس کے تھوڑا  عرصہ بعد۱۹۶۸ء میں باباسائیں حسن الدینؒ کے پردہ فرمانے پر حافظ جی کی زندگی میں نمایاں تغیر آیا۔

آپ پیدائشی خوش الحان تھے مگر زمانہ  کے تھپیڑوں  کی وجہ سے  آواز میں ایک خاص  سوز پیدا ہوگیا تھا ۔مختلف صوفی شعراء کے لکھے کلام گُنگُناکر سنانے میں اچھوتا ملکہ حاصل تھا،جس سے سننے والا مسحور ہوئے بغیر نہیں رہ سکتاتھا۔عام حالات میں بظاہر سخت رویہ کا اظہار   کرتے تھے مگر دراصل نہایت نرم مزاج تھے۔کسی کی تکلیف کی بابت علم بھی ہوجاتا تو مداوہ ہونے تک خود بے چین رہتے  اور اپنی طرف سے جو عملی مدد ہوسکتی ،کرنے میں گریز نہ کرتے۔ہاتھ اٹھا کر لمبی چوڑی رسمی دعاؤں کے قائل نہ تھےبلکہ فرمایا کرتے کہ کسی کا بازو پکڑ کر اُسے منزل پر پہنچانا عملی دعا ہے۔زمانہ کی صعوبتوں میں گھرے ہوئےغرباء و نادار حاجت مندوں کی ضرورت پوری کرنے کےلئے ہر وقت مستعدرہاکرتے تھے۔چونکہ خود بہت زیادہ دکھ اور تکالیف دیکھیں اور برداشت کی تھیں اس لئے دوسروں کے دکھ درد کو  سمجھنا اور اُن کا مداوا کرنا آپ کے لئے باعثِ مسرت تھا۔زندگی کی حقیقت کے واقف ہونے کی وجہ سے آ پ لوگوں  سے میل ملاپ کےلئے منفرد نقطۂ نظر رکھتے تھے۔ذات کے کرم  اور زندگی کے گہرے تجربہ کی بنیاد پرسامنے آنے والے شخص کی قدوقیمت ایک نگاہ میں بھانپ لیتے تھے ۔حلقۂ احباب بہت وسیع تھامگر ذاتی ضرورت کے تحت آنے والوں کو زیادہ دیر اپنے پاس رکنے نہ دیتے تھے،آنے کا مقصد جان کر اور تشفی آمیز حل دے کر جلدی واپس بھیج دیتے۔چند خوش قسمت افراد کو یہ عزت نصیب ہوئی کہ حافظ سائیںؒ نے انہیں خاص شفقت سے نوازا۔

آپ نے زندگی کا زیادہ وقت حقائقِ قرآن میں پوشیدہ اسرار ورموز سمجھنے اور ازاں بعد سمجھانے میں  صرف کیا۔آیاتِ قرآنی کی تفسیر اور اُن میں چھپے مطالب اس مہارت سے بیان فرماتے کہ قرآن فہمی کے مستند دعویٰ دار وں کی عقلیں گُم ہوجاتیں۔احکاماتِ قرآن کو اپنی ذات پر وارد کرکے اُن کی عملی تفسیر بننے کی ترغیب دیا کرتے ۔  ہمیشہ قرآن میں سے موضوع منتخب کرکےاُس کی تفصیل اور تشریح اوّل قادر قلندر رنگ میں بیان فرمایا کرتے۔گفتگو  نہایت مدلل ہوتی اورآیات میں موجود بین السطور نکات اس ترتیب سے سمجھاتے کہ سننے والے عش عش کراٹھتے۔لیکچر کے دوران  سوال پوچھنا سخت ناپسند کرتے تھےاور کہا کرتے کہ بات کی تکمیل سے قبل بات کاٹنا جہالت کی نشانی ہوتی ہے۔سیر حاصل گفتگو کے بعد بہر طوراجازت دیتے کہ کوئی نکتہ مزید تشریح طلب ہو تو اُس کی بابت سوال کرلیں۔قرآن کے علاوہ اکثر حوالہ جات کشف المحجوب سے دیا کرتے۔فخریہ انداز میں بتایا کرتے تھے کہ باباسائیںؒ کے پردہ کے بعد علی الہجویریؒ نے بھاٹی چوک لاہور میں بٹھا کر بذاتِ خود مجھے کشف المحجوب  کا کشف کروایا تھا۔سابقہ صوفیائے کرامؒ   کی مقدس زندگیوں سے بھی حوالہ دیا کرتے۔اہل بیت طہارؑ اور آلِ ؑرسول کے ایسے عاشق تھے کہ الفاظ اُس کیفیت کو واضح کرنے سے قاصر ہیں۔کبھی کبھی منہ سے نکل جایا کرتا تھا کہ میں زمانہ میں بی بی کریمہ سلام اللہ علیھا اور اُن کی نورُ علیٰ نور اولاد کا وکیل ہوں۔ہر سال محرم الحرام کے ابتدائی ایام، جن کی نسبت امام حسینؑ  اور واقعہ ٔ کربلا سے ہے،کا خاص عقیدت اور احترام سےاہتمام فرماتے۔ خصوصی مجالس کا بندوبست ہوتا جس میں ہر سال نئے زاویہ سے امام عالی وقارؑ کی مدحت اور درسِ حسینیت پر روشنی ڈالی  جاتی۔ان مجالس میں ملک کی نامور ادبی شخصیات بھی شامل ہوا کرتیں۔

قرآن پاک میں بیان کردہ اوامر و نہی کو صحیح طور پر سمجھنے اور سمجھانے پر بہت زور دیتے۔اکثر فرمایاکرتے کہ مختلف فرقے بننے کی بنیادی وجہ قرآن کے مختلف تراجم ہیں،جسے موجودہ دور میں اسلام دشمن قوتوں نےخاص طورپر ہوا دی ہے۔توحیدِ الہی کے متعلق باطل اور فرسودہ خیالات کو بھی شدت سے ردّ کیاکرتے اور فرمایا کرتے کہ جس خوش قسمتی کو  اللہ کی توحیدکا عرفان ہوجائے  وہ  عین دین ِ اسلام پر ہوتاہے۔آپ قرآن میں استعمال ہونے والے تمام اسماء ِ الہی کو اسم معرفہ   ماننے کے قائل تھے،اور  ترجمہ بیان کرنے  میں ہمیشہ اس بنیادی بات کا خیال رکھا کرتے تھے۔فرمایا کرتے کہ الانسان، آدم، بشر،رجل اور عبد وغیرہ اسماء کو بھی ہم معنی قرار دینا بہت بڑی غلطی ہے۔آپ نے اپنی زندگی میں سترہ(17) برس نماز تراویح امامت کرکے پڑھائی،لیکن آخر کار ظاہرہ اور رسمی عبادات پر زور دینا ترک کر دیا تھا۔مبتدیوں کو نماز پڑھنے ،روزہ رکھنے اور زکوۃ ادا کرنے کی تلقین کیا کرتے، یہاں تک کہ اگر لیکچر کے دوران اذان ہوجاتی تو وقفہ نماز کا اعلان فرماتے اور نماز کےلئے جانے والوں کی خاطر تدریس کا عمل روک دیتے تھے۔  محبتِ الہی کا دعویٰ رکھنے وا لوں کو اگر رسوم وقیود کا پابند دیکھتے تو اُن سے سخت برتاؤ کرتے، مگر حلقۂ یاراں میں اکثر بریشم کی طرح نرم ہوتے تھے۔

چندواقعات:۔

ایک قریبی دوست کی والدہ لاہور شہر کےشالیمار ہسپتال میں زندگی اور موت کی سخت اذیت  ناک کشمکش میں مبتلا تھیں۔حافظ سائیںؒ سے عرض کی گئی تو فرمایا  آج رات پورے دو بجے ہسپتال کے دروازہ پر شدید سردی کے باوجود ایک ننگا شخص آئے گا، یہ درخواست  اُس کو کرنا۔پورے دو بجے اچانک ایک ننگا شخص دروازہ کے قریب نمودار ہوا۔مدعا بیان کرنے پر اُس نے کہا میرے پینے کے لئے   انار کا جوس لاؤ۔سڑک پار سے جوس لایا گیا ،پی کر وہ کہنے لگا تمہاری ماں کو سکون آگیاہے،اور خود نظروں  سےاوجھل ہوگیا۔ اُسی لمحہ دوست کی والدہ اللہ کو پیاری ہو چکی تھی ۔

ایک دفعہ ایک ناواقف دکھی ماں خدمت میں حاضر ہوئی اور رو کر فریادکرنے لگی کہ میرا جوان شادی شدہ  بیٹا  قریب  چھ برس سے لاپتہ ہے اور بسیار کوشش کے باوجود اُس کی خبر نہیں ملی۔ماں کی حیثیت سے میرے دل کو قرار نہیں آتا ،آپ کا سُن کر بڑی آس لے کر آئی ہوں۔بہت معمولی توقف کے بعد فرمایا اگلے چاند کی چھ تاریخ کو تمہارا بیٹا  بخیریت  گھر آجائے گا۔خاتون یقین اور بے یقینی کی کیفیات کے ساتھ واپس لوٹی تو حافظ سائیںؒ نے موجود افراد کو بتایا کہ ماں نے اپنے بیٹے کی شادی اپنی مرضی سے کی تھی ،جب کہ بیٹا کسی اور لڑکی کی طرف مائل تھا۔موقع ملنے پر وہ دوسری شادی کرکے پروگرام کے مطابق مگر اچانک ملک سویڈن چلا گیا تھا اور تب تک ہمت نہ کرسکا تھا کہ گھر والوں کو مطلع کر سکے۔اُسے حکم اور حوصلہ دے دیا گیا ہے اور انشاءاللہ دیے گئے اشارہ کے مطابق وہ بچہ گھر آجائے گا۔ اگلے  چاند کی چھ تاریخ کو وہ خاتون بیٹے کے ہمراہ مٹھائی لے کر دوبارہ حاضرِخدمت تھی۔

گوجرانوالہ شہر کے ایک نامی بزرگ جن کے ہزاروں مریدین تھے،ایک عیسائی سکول ماسٹر کو ساتھ لے کر آپ کے پاس آئے،اور کہا کہ میری باتیں سُن کر یہ اسلام قبول کرنے کا خواہش مند ہوا ہے۔چونکہ لاہور شہر میں آپ موجود ہیں اس لئے مَیں نے مناسب سمجھا کہ  یہ کارِ خیر آپ کے ہاتھوں تکمیل پذیر ہو۔آپ نے برجستہ اُس بزرگ کو فرمایا کہ ’’اوہ فلانے اگر گلی میں کسی کا راہ بھولا بچہ روتا ہوا ملے تو کیا اُسے اپنے گھر لاکر باندھ لینا چاہیے یا کوشش کرکے اُسے اُس کے گھر پہنچانے کا بندوبست کرنا چاہیے۔‘‘اُس بزرگ نے کہا کہ اُس کے گھر پہنچانا بہترین سنت ہے۔یہ سُن کر حافظ سائیںؒ فرمانے لگے کہ یہ ماسٹر صاحب بھی گھر کا راستہ ہی بھولاہے،اپنے گھر میں پابند کرکے اسے اور اس کے گھر والوں کو اذیت میں مبتلا کرنا دانش مندی نہیں ہوگی۔پھر اُس ماسٹر کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا ’’ماسٹر جی اسلام قبول کرکے تمہیں سجدہ کی ترغیب دی جائے گی ، جب کہ’گِر-جا‘کی آسائش تمہارے پاس پہلے سے موجود ہے۔  اپنی  طبیعت کا میلان سچے مالک کی طرف کرلو، تمہیں سلامتی اپنے ہی گھر میں مِل جائے گی۔قبولِ اسلام کے بعد تمہیں کئی معاشرتی مسائل کا سامنا ہوگا،جن کا اثر تمہارے کنبہ کو بھی برداشت کرنا پڑے گا۔میری مانو اپنی اولاد کی ذمہ داریوں سے فارغ ہوجاؤ،اگر اُس کے بعد تمہیں محسوس ہوکہ سلامتی میسّر نہیں آرہی،تو پھرکسی سے حق کا درس لینے کی جستجو کرنا۔مَیں زندہ ہوا تو خوشی سے یہ فریضہ

    ہم سے رابطہ کریں۔