Eelaafhmi

مختصر حالاتِ زندگی

آپ کے والدبرطانوی نژاد انگریز تھےجب کہ آپ کی والدہ محترمہ فرانسیسی  تھیں اور دونوں مذہب کے لحاظ سے عیسائی تھے۔آپ والدین کے اکلوتے صاحبزادہ تھے اور آپ کا نام ایلفرڈ  رکھا گیا تھا۔آپ اکثر فخریہ انداز میں فرمایا کرتے کہ اُن کے والدین نے زندگی بھر شراب نوشی نہ کی تھی۔بنیادی تعلیم کے حصول کے بعد آپ نے برمنگھم یونیورسٹی، برطانیہ سے مکینیکل انجینیرنگ میں ایم ۔ایس ۔سی کی۔

آپ کو بچپن ہی سے صبح کی سیر کی عادت تھی۔روایات کے مطابق یونیورسٹی کے امتحانات سے فارغ ہونے کے بعد ایک صبح ،سیر کے دوران انہیں ایک ایشیائی نژاد بھوری جلد والا شخص ملا۔اُس نے بتایا کہ آپ کو ولایت کےلئے منتخب کرلیا گیا ہے اور آپ کا نام ’حسن الدین‘ پسند کیا گیا ہے۔اُس نے مزید کہا کہ کل صبح جب آپ سیر کے لئے آئیں گے تو اسی جگہ آپ کو ایک اور بھوری جلد والا شخص ملے گا،جو آپ کو مزید راہنمائی دے گا۔ایلفرڈ کو تذبذب میں مبتلا دیکھ کر اُس شخص نے کہا کہ کل صبح  میرا وجود مردہ حالت میں  یہاں پڑا ہوگا،جسے دیکھ کر آپ قدرتی طور پر حیرت زدہ ہوجائیں گے۔لیکن اس سے قبل کہ آپ کچھ کرسکیں  سرکاری لوگ آئیں گےاور ہاتھوں میں دستانے پہن کر میرا وجود  اُٹھا کر سڑک سے پار گندگی کے ڈھیر پر پھینک دیں گے۔سرکاری لوگوں کے جانے کے بعد وہ شخص نمودار ہوگا جس کا میں نے آپ سے تذکرہ کیا ہے۔کل یہاں پڑی میری لاش اور بعد میں ہونے والے واقعات میرے کہے کی تصدیق ہوں گے۔

بابا سائیں ؒ فرمایا کرتے کہ اگلی صبح تک کا وقت میں نے نہایت بے قراری میں گزارا،مگر جب سیر کرتا اُس مقام پر آیاتو وہاں ایک لاش دیکھی جو ہوبہو کل والے شخص کا نقشہ تھا۔میری حیرت برقرار تھی کی کہ سرکاری گاڑی آئی اور اہلکاروں نے دستانے پہن کر اُس لاش کو سڑک کے پار گندگی کے ڈھیر کی طرف پھینک دیا۔اُنکےچلے جانےکےبعد اچانک ایک بھوری جلد والا ایشیائی شخص  میرے  سامنے آیا،جس نے حسن نام سے پکار کراپنا ہاتھ مصافحہ کےلئے بڑھایا۔جب میں نے اپنا ہاتھ اُس کےہاتھ میں تھمایاتو اُس نے میری کلائی  کو جھٹکا دے کر مروڑ دیا۔درد کے احساس سے میری چیخ نکلا ہی چاہتی تھی کہ ہم دونوں ایک گھنے جنگل میں آموجود ہوئے۔جلد مجھے معلوم ہوگیا کہ وہ جگہ میرے لئے انجان ہے مگر لانے والا اُس سے مانوس تھا۔ اُس شخص نے بتایا کہ ہم نیروبی،کینیا کے ایک جنگل میں پہنچے ہیں اور یہ کہ مجھے اُس جگہ کافی مدت قیام کرناہوگا۔

بابا سائیں ؒفرمایا کرتے کہ وہ دو دہائی سے زائد عرصہ اُس جنگل میں مقیم رہے ،جہاں اُن کو علوم  شرقیہ سمجھائے اور پڑھائے گئے۔اسی دوران قرآن حفظ کروایا گیا اور صرف،نحو ،تجوید اور معارفِ قرآن سکھائے گئے۔اُس جگہ ہر قسم کے رزق کی باقاعدہ فراہمی اپنی ذات میں ایک اچنبھا سے کم نہ تھی۔جو شخص نیروبی لے گیا تھا وہ باقاعدگی سے آکر تعلیم و تربیت کرتا رہا اور زندگی کی بقایا ضرورتوں کا سامان بھی کرتا رہا۔لگ بھگ بیس برس بعد اُس نے کہا کہ میرا کام مکمل ہوگیا ہے،تم نیروبی شہر جاؤ وہاں تمہیں غلام محمدؒ ملیں گے۔ تمہاری بیعت اُن کے ہاتھوں میں مقدور ہے اور وہ ہی تمہارے لئے اگلا لائحۂ عمل طے کریں گے۔بیعت کرکے مرشد نے  فصیح احکامات کے ساتھ مجھے  برصغیر ہندوستان پہنچنے  کا حکم دیا ۔تب پاکستان معرضِ وجود میں نہیں آیا تھا۔

نیروبی سے آپ بحری سفر کرتے دہلی شہر آئے اور پھر لاہور شہر سے ہوتے ہوئے گجرات شہر تشریف لےگئے۔گجرات میں آپ  نےسات سے نو برس کا  وقت فرد فقیرصاحبؒ اور حضرت کانواں والی سرکارؒکے ساتھ گزارا۔ازاں بعد آپ مستقل طور پر لاہور شہر منتقل ہوگئے اور دربار مادھو لال حسینؒ کے عقبی علاقہ میں اُس جگہ سکونت اختیار کی جہاں آج آپ کا ابدی نشان بنایاگیا ہے۔یہاں آپ کے ہم عصروں میں قبلہ  سائیں حاضر حسین ؒ کا نام قابل ذکر ہے،جن  کا روزہ احاطہ دربار مادھو لال حسینؒ میں بنایا گیا ۔لاہور قیام کے دوران آپ نے  لاکھوں حاجت مندوں کی دلجوئی   فرمائی اور ہزاروں تشنگان کو سیراب فرمایا،لیکن اپنے عالی سلسلہ کا فیض اپنے حقیقی جانشین حافظ محمد اقبال ؒکو تفویض کیا۔

28 ستمبر 1968ء بروز ہفتہ صبح صادق  آپ نے اپنی جان ،جاں آفریں کے سپرد کی۔اس تاریخ کی مطابقت 4 رجب المرجب 1388ھ اور ماہ اسوج کی 13 تاریخ اور سن 2024  بکرمی بنتی ہے۔علاقہ کے عقیدت مندوں نے آپ کی رہائش کے ایک کنال احاطہ میں دفن کرکے ایک سادہ دربار بنوایا اور باقی کھلی جگہ کو  باغ نما شکل دے دی۔

مزاج باباسائیںؒ:۔

حافظ سائیں محمد اقبالؒ کی زبانی ہمیں معلوم ہوا کہ بابا سائیںؒ نہایت شفیق المزاج شخصیت کے مالک تھے۔پُر مذاق طبیعت ہونے کے باوجود  کبھی کسی  کی دل آزاری اور رنجش  کا باعث نہ ہوئے۔آپ کے  انداز میں عمومی طور پر  انکساری کی جھلک نمایاں ہوتی اور منکسر المزاج لوگوں کوعزت کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے۔اگر کبھی کوئی ناواقف اور جاہل شخص  طعن کے انداز میں برا بھلا بھی کہہ دیتا تو اکثر در گزر فرماتے۔  اُن کی حتی المقدور کوشش ہوتی کہ اپنا کام خود اپنے ہاتھوں سے کریں،بلکہ دوسروں کاکام کرنے میں بھی خوشی محسوس کرتے تھے۔آپ کی خوراک بہت قلیل اور سادہ ہوا کرتی تھی۔کھانے میں کسی قسم کے تکلف اور بناوٹ کو پسند نہیں کرتے تھے۔تمام رات یادِ الہی میں جاگنا اُن کا پسندیدہ معمول تھا،جب کہ فجر اور اشراق کے بعد  دن کے کچھ حصہ میں استراحت کی نظر سے زمین پر لیٹ جاتے تھے۔زندگی کے آخری چند سالوں میں چارپائی کا بندوبست ہوسکا  مگر اُس سے استفادہ کا زیادہ موقع نہ ملا۔ روزانہ تہجد کی تیاری میں غسل کرنا پابندی سے اُن کے معمولات میں شامل تھا،جس کےلئے ہمیشہ کنویں کا تازہ پانی استعمال فرماتے۔سخت سردی کے دنوں میں بھی پانی گرم کر کے غسل کرنے کی عادت نہیں تھی۔

اباسائیں ؒ اپنے لباس کی پاکیزگی اور صفائی کا بہت اہتمام کرتے تھے۔اعلی قسم کے قیمتی کپڑوں سے اجتناب کرتے  اور حقیقت میں کپڑوں کی اقسام سے بالکل بے نیاز تھے۔لاہور شہر میں قیام کے دوران،دن کے اوقات میں  عمومی طور پرتہہ بنداور کرتا زیب تن رکھتے تاکہ اچانک آنے والے ضرورت مندوں کودقت کا سامنا نہ ہو۔ اپنے لئے سفید یا سفیدی مائل لباس کو ترجیح دیتے ،جب کہ ملنے والوں کو بھی ہلکے رنگوں کے لباس کی ترغیب دیتے۔آپ اکثر فرمایا کرتے کہ لباس دکھاوے کےلئے نہیں بلکہ ستر شرعی کےلئے ہونا چاہیے،اور اُسے اس حد تک صاف ہونا چاہیے کہ عبادت میں مانع نہ ہو۔اپنے وجود کے گرد بہت زیادہ کپڑا لپیٹ کر اپنے آپ کو دوسروں سے ممتاز کرنے اور بزرگ ثابت کرنے   کی کوشش کرنے والے ’جعلی پیروں‘سے سخت رویہ رکھتے اور انہیں سادگی اختیار کرنے کی نصیحت فرمایا کرتے تھے۔کبھی کبھی مزاح کےرنگ میں کہا کرتے کہ اگر یہ لوگ اپنے گرد لپٹے غیر ضروری کپڑےحاجت مند غریبوں میں تقسیم کردیں تو دنیا میں کوئی ننگا نہ رہے۔ ایسے فرمان میں کئی حقائق محسوس کئے جاسکتے ہیں۔

نیروبی،کینیا پہنچ جانے کے بعد آپ نے زندگی بھر  سر اور داڑھی کے بال  نہیں ترشوائے۔ریش مبارک اتنی بھرواں تھی کہ پہلی ہی نظر میں ببر شیر کی طرح بارُعب دکھائی دیتے۔چہرے پر ہر وقت ہلکی سی مسکراہٹ کے باوجود دبدبہ کا یہ عالم تھا کہ  آپ کے پاس کوئی شخص بے ہودہ پن کی جرأت نہ کرسکتا تھا۔سر کے بال اس قدر لمبے ہوگئے تھے کہ چلتے ہوئے زمین کو مَس کرتے ۔کئی مرتبہ اُن کی چوٹی بنا لیا کرتے     تاکہ بلا وجہ گندے ہونے کا سبب نہ ہو۔بالوں کی صفائی کا بھی بے حد خیال رکھتے تھے،یہاں تک کہ زندگی کے آخری ایام میں بھی آپ کے بال ریشم کی طرح نرم و ملائم اور چمک دار تھے۔مشہور ہے کہ باباسائیںؒ اکثر پنجوں کے بل زمین پر بیٹھنا پسند کرتے تھے۔کچھ فاصلہ سے دیکھنے والوں کو یوں محسوس ہوتا جیسے اُٹھ کر کہیں تشریف لے جا نے کا ارادہ ہو۔لیکن حقیقت ہے کہ وہ  رجوع الی اللہ کی انتہائی حالت تھی ،کیونکہ پوچھنے والے کو آپ نے فرمایا ’’معلوم نہیں کب مالک کی طرف سے پیغام آجائے،بندہ کو زیب نہیں دیتا کہ پیغام لانے والا اُسے ایسی  حالت میں پائے جسے غفلت سے تعبیر کیا جا سکے۔‘‘

تلاوتِ کلامِ پاک باباسائیں ؒ کا پسندیدہ مشغلہ تھا،اس کی باقاعدگی کا یہ عالم تھا  کہ جس صبح صادق آپ کا وصال ہوا،اُس رات بھی تہجد کے بعد معمول کے مطابق قرآن کی تلاوت فرمائی۔چھوٹے بچوں کو ناظرہ قرآن پڑھانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے،اور بڑوں کو قرآن سمجھنے کی ترغیب دیا کرتے۔فرمایا کرتے جس کا اوڑھنا بچھوناتعلیماتِ قرآن کے عین مطابق نہ ہو ،وہ اگر محبتِ الہی کا دعویٰ کرے تو   باطل ہوگا۔آپ کی زندگی کا بیشتر حصہ  روزہ کی حالت میں گزرا،مگر رمضان المبارک کے روزوں کا خصوصی اہتمام فرمایا کرتےتھے۔زندگی کے آخری حصہ تک فرض روزہ قضا نہیں ہونے دیااور اپنے  چاہنے والوں کو اس کی اہمیت و افادیت واشگاف الفاظ میں بیان کیا کرتے تھے۔ ماں باپ کی تعظیم اور بڑوں کے ادب کا درس ہر آنے جانے والے کو دیا کرتے۔اگر کسی کے متعلق خبر ملتی کہ اُس سے ماں باپ یا کسی بڑے کے حق میں کوتاہی ہوئی ہے تو اسے سرزنش کرتے  اور زور دے کر  غلطی کے ازالہ کا حکم دیتے ۔ دلی محبت  اور چاہت سے قریب آنے والوں کو بھی عام طور پر راہِ سلوک کی دعوت نہ دیتے تھے کیونکہ آپ کہا کرتے کہ طریقت کا راستہ اپنانا ہر کس و ناکس کےلئے آسان نہیں بنایاگیا۔اسی لئے آپ اکثر فرمایا کرتے کہ احوال میں سے جوکچھ تمہیں مشاہدہ ہواُسے بیان میں نہ لاؤ۔ اوّل تو تمہاری بات سمجھنے والا مشکل سے ملے کا اور اس طرح مجاہدہ کا انعام بھی پھیکا ہوجاتاہے۔

    ہم سے رابطہ کریں۔