شہودی کائنات کا وجود عناصر کے تابع ہے ۔ہر عنصر بے شمار و لاتعداد چھوٹے چھوٹے ذرات کا مجموعہ ہوتا ہے،جو ہم شکل اور ہم جنس ہوتے ہیں ۔سائنس کی زبان میں کسی عنصر کا چھوٹے سے چھوٹا ممکنہ ذرہ ایٹم ہوتا ہے ۔ساد ترین ماڈل کے مطابق ایٹم کا ایک مرکز ہوتا ہے اور مرکز کے گرد ،باہر کی طرف سیارگان کی مانند ،کچھ ذرات گردش کر رہے ہوتے ہیں ،جنھیں الیکٹرونز کا نام دیا جاتا ہے۔یہ مستند سائنسی حقیقت ہے کہ الیکٹرونزمنفی برقی اثرات کے حامل ہیں۔ایٹم کے مرکز میں بھی دو اقسام کے ذرات ہوتے ہیں ۔ایک پروٹونز جو تعداد میں اتنے ہوتے ہیں ،جتنےباہر گردش میں الیکٹرونز ، فرق یہ ہے کہ یہ مثبت برقی اثرات کے حامل ہوتے ہیں ۔چونکہ الیکٹرونز اور پروٹونز تعداد میں برابر ہوتے ہیں ،اس لیے ہر ایٹم میں منفی اور مثبت اثرات کی قوت بھی برابر ہوتی ہے ۔یہی قوت کی برابری اس بات کا سبب بنتی ہے کہ الیکٹرونزایٹم کے گرد اور ساتھ بندھے رہتے ہیں ۔مراد یہ کہ منفی برقی اثرات کے حامل الیکٹرون ،اپنے مرکز سے باہر رہتے ہیں اور نہایت تیز رفتاری سے اُس کے گرد گھومتے رہتے ہیں ،لیکن مرکز کے ساتھ اپنے فاصلے میں ردوبدل نہیں کرسکتے اور نہ ہی مرکز سے دور جاسکتے ہیں۔ دوسری قسم کے ذرات کو نیو ٹرانز کہتے ہیں ،جن پر کسی قسم کا کوئی برقی اثر نہیں ہوتا اور ان کی تعداد پروٹونز سے ہمیشہ ایک کم ہوا کرتی ہے ۔مرکز میں موجود نیوٹرونزاور پروٹونز ہر قسم کی حرکت سے بے بہرہ ہیں ،لیکن الیکٹرونز کی حرکت انہی کے سبب سے ہے۔ایٹم کے مرکز میں موجود پروٹون قوت جاذبہ کی مانند ہیں، جبکہ قوت دفع کو الیکٹرونز سے تعبیر کیا جاسکتا ہے ۔قوت ِ جاذبہ کو ہی محبت کہتے ہیں اور قوت دفع نفرت کہلاتی ہے۔ہم وجود آدم میں موجود باطن کوایٹم کے مرکز سے تعبیر کرسکتے ہیں،جس میں مثبت برقی قوت ہوتی ہے ۔ جبکہ ظاہرہ جسم کو الیکٹرونز یعنی منفی برقی اثرات کا حامل تسلیم کرلیتے ہیں۔الیکٹرونز کو گردش کرنے کے لیے قوت پروٹونز سے ملتی ہے ۔اِسی طرح بنی آدم کے وجود کو مرکز یعنی قلب سے قوت ملتی ہے ۔یہ حقیقت ہے کہ ظاہر باطن کی ضد ہوتا ہے۔ اگر دل حب الہیٰ سے سرشار ہو تو مرکز سے ملنے والی قوت اتنی ہی قوی ہوگی۔ اگر باطن جسے ایٹم کا مرکزکہاگیا ہے، محبت جیسی قیمتی دولت سے مالا مال ہو تو اس سے حاصل ہونے والی قوت ہمیشہ بھلائی کی ترغیب دے گی ۔اس لیے دل کا محبت الہیٰ سے وابسطہ ہو نا بہت ضروری ہے ۔وہ دل ،دل ہی نہیں جس میں محبت نہ ہو۔محبت الہیٰ کا دل سے مخمور ہونا ،بھلائی کی ترغیب دینے کے مترادف ہے ۔اگر باطن محبت الہیٰ کی خوشبو رکھتا ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ روز قیامت ندامت سے سر جھکانا پڑے۔ اِسی طرح اگر دل محبت الہیٰ سے خالی ہے تو امکان ہے ظاہرہ وجود برائی کی طرف رغبت رکھے،اور شیطانی وسوسوں کی گرفت میں آجائے۔اس لیے سالک کو چاہیے کہ دل کو اللہ کی محبت کے سوا ہر چیز سے دور کردے تاکہ اس کے وجود کا مرکز محبت الہیٰ سے منور ہو سکے۔