Eelaafhmi

دین ِ اسلام نے تمام عبادات کی غایت محبت کو بتلایا ہے،کیونکہ محبت کے بغیر عبادات کی اصل تک پہنچنا ناممکن ہے۔دراصل غرض ِ خلقت ہی محبت ہے گو خالق ،ظاہرہ طور پر غرض ِ خلقت ،عبادت کو کہتا ہے ۔ایک حکم ہوتا ہے ،ایک اس کی تعمیل جس میں حکم کی غرض چھپی ہوتی ہے۔ایک  بچہ کو پڑھنے کا حکم دیا جاتا ہے ،تعمیل کرنے پر اس کی غرض تو خو شنودیِ خداوندی ہو سکتی ہے، لیکن حقیقی غرض ،محبت نکلے گی۔اگر محبت نہ ہو تو نہ نماز، نماز ہے ،نہ روزہ ،روزہ ۔ نماز کی ادائیگی کےلیے دل کا محبت الہیٰ سے سرشار ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ اگر دل میں محبت الہیٰ نہیں  ہوگی تو  نماز کی ادائیگی کا حق ادا  نہ ہوسکے گا۔اِس لیے سالک کو چاہیے جب اس کی طرف نماز کا حکم آئے تو اپنے   دل کو محبت الہیٰ سے وابستہ کرے اور باقی تمام  مرغوبات دنیوی سے ہاتھ اٹھالے  تاکہ نماز کی ادائیگی کا حق ادا ہوسکے ۔محبت کو جہاں نماز کے لیے لازمی قرار دیا ہے وہیں روزہ میں بھی اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔روزہ بھوک اور پیاس کی شدت کو روکے رکھنے کا نام نہیں بلکہ دراصل روزہ میں  رضائے الہیٰ کو تسلیم کرنا ہے جو کہ محبت کی اصل ہے۔مراد یہ ہے کہ  آنکھ ، زبان ،ہاتھ اور وجود کے ہر عضو کا روزہ رکھا جائے۔  یعنی  کہ وجود کو نفسانی خواہشات سے باز رکھا جائے تاکہ وجود کے اعضاء نجاست سے پاک رہ سکیں ۔یہ  باطن کی صفائی کے مترادف ہے جس کو محبت الہیٰ کے بغیر حاصل کرنا ممکن نہیں۔ حج کا بنیادی مقصد دنیا سے بے رغبتی ہےاور نفسانی خواہشات سے اعراض کرنا ہے،  تاکہ دل میں خالص محبت الہیٰ کے سوا کچھ نہ ہو ۔ حاجی کو چاہیےکہ وہ حج کرتے وقت اپنے دل کو تمام رغبتوں اور لذتوں سے محفوظ رکھے اور محبت الہیٰ کو دل میں جگہ دے اور  باطن کی صفائی کا سامان کرے، تاکہ امکان ہو کہ  حج قبولیت کے درجہ کو پہنچ جائے  ۔ دل کو ماسوائے اللہ کی محبت ،اور ہر طلب سے پاک کر کے صدق دل سے احکامات خداوندی کی تعمیل کرنا اور ایک لمحہ کے لیے بھی سنت مصطفی ؐ کو ترک نہ کرنا  باطنی صفائی کہلائے گا، جس کا  حصول خالص محبت الہیٰ ہے۔یہ  

اٹل حقیقت ہے کہ جنت میں داخلہ رضامندی پر موقوف ہے جس کے معنی  محبت ہیں  جو عین دین ہے۔علی ؑ کا فرمان ہے کہ اے اللہ میں تیری عبادت بہشت کی طمع یا جہنم کے خوف سے نہیں کرتا ،بلکہ اس لیے کرتا ہوں کہ تو ہے ہی اس قابل کہ تجھ سے محبت بھی کی جائے اور تیری عبادت بھی ہو ۔

Leave a comment