Eelaafhmi

محبت معاشرتی زندگی کی بنیادی اثاث ہے۔یہ اس ستون کی مانند ہےجس پر معاشرہ کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ ایک صحت مند  معاشرہ محبت ہی کی بدولت قائم ہوتا ہے ۔جیسا کہ اگرمحبت کے ساتھ مل جل کر زندگی بسر کی جائے اور ایک دوسرے سے رابطہ اور تعلق قائم رکھا جائے تو مشترکہ اقدار کوتشکیل دینے  کا موقع مل سکےگا ۔اگر محبت کے جذبہ کو بنی نوع آدم کی زندگیوں سے نکال دیا جائے ،تو وہ جانوروں سے بدتر ہوجائے گا۔چونکہ معاشرت ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنے سے تعبیر ہے۔اس لیے معاشرہ بننے کے لیے لازم ہے کہ افراد میں باہمی ربط اور میل جول کا رشتہ ہو،جس کی روح رواں محبت ہے۔معاشرتی زندگی کی ابتداء کنبہ سے شروع ہوکر آفاقی سطح تک پھیل جاتی ہے۔بلاشک کنبہ اور گھر کا تصور محبت کے باہمی جذبہ کے بغیر بے معنی ہوگا۔کنبہ کے سر براہ کی حیثیت سے ماں باپ کا باہمی سلوک محبت کا متقاضی ہے۔ماں باپ کا اولاد سے محبت کرنا ہی گھر کی رونق اور آبادی کا باعث ہوتا ہے۔اولاد بھی جوان ہوکر اگر اپنے ماں باپ سے صلہ رحمی اور محبت کا عمل جاری رکھےتو یہ صدقہ جاریہ کی شکل بن جاتی ہے۔ماں باپ کی محبت کی محبت والی تربیت پاکر جب اولاداپنے گھر بناتی ہےاور ان میں محبت کی فضا  برقرار رہتی ہے تو اس طرح پھیلنے والے گھر ایک قصبہ تشکیل دیتے ہیں ۔ایک اچھا قصبہ کہلانے کا حقدار وہی ہوگاجہاں مختلف ذاتوں برادریوں اور مختلف فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے افرادصرف محبت کی بنیاد پر ایک مٹھی کی طرح بس رہے ہوں گے۔ایسے کئی قصبے مل کر شہر تشکیل دیتے ہیں جس کے پیچھے بنیادی طور پرمحبت کا جذبہ ہی کار فر ما ہوتا ہے۔شہروں کی بنیاد پر ملکوں کا تصور بھی محبت کے بغیر ممکن نہیں۔اسی طرح دنیا بھر میں بہترین معاشرتی زندگی اس وقت ممکن ہوگی جب باہمی محبت کے زریں اصول کو مدِ نظر رکھا جائے گا۔ کہا جاسکتا ہے کہ محبت رشتوں کی ماں ہے، کیونکہ وہ   نا صرف نئے رشتوں کو جنم  دیتی ہے ،بلکہ ان رشتوں کو پروان چڑ ھانے کی ذمہ داری بھی قبول کرتی ہے۔یہ بھی سچ ہے کہ محبت رشتوں کی محتاج نہیں بلکہ رشتے محبت کے محتاج ہوتے ہیں ۔ محبت صرف کسی معاشرے میں  بنیادی ضروریات کو پورا کرنے تک ہی محدود نہیں  بلکہ یہ بیک وقت  بنی آدم کی باطنی خوبصورتی کے حصول کا بھی سبب ہے۔  محبت کے جذبہ سے تشکیل پانے والی شخصیت اپنی اور معاشرتی زندگی کو خوشگوار بناتی ہے۔محبت سے افراد میں اعتماد کا جذبہ پختہ ہوتا ہے ،جس سے کامیابی کے حصول میں بہتری پیدا ہوتی ہے۔مشاہدہ ہے کہ ایسے کہنے اور معاشرے میں ایسے افراد ملتے ہیں جن کے دلوں میں حسد ،بغض ،کینہ ،لالچ اور نفرت جیسی برائیاں جگہ پکڑ لیتی ہیں اور محبت کے فقدان کی وجہ سےمعاشرہ اور کنبہ تباہ ہوجاتا ہے۔بلاشک معاشرہ میں پائے جانے والے مختلف تضادات کے باوجود محبت بنی نوع آدم کی مشترک صفت ہے کیونکہ مالک کائنات نے ہر نومولود میں محبت کرنے کی صلاحیت خود ودیعت کی ہے ۔ہمیں چاہیے کہ اس عطیہ خداوندی سے ایک پاکیزہ اور صحت مند معاشرہ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ 

Leave a comment