Eelaafhmi
.آدم ذات بے اختیاری کی حدوں کو چھو سکتا ہے۔
جو ہوتا ہے اسے کہنا نہیں پڑتا اور جس سے کہا جاتا ہے وہ کبھی ہو نہیں سکتا۔
اگر تمام عالمین محمدؐ اور آلِ محمد ؐکی محبت جمع ہو جائیں، تو جہنم برقرار رکھنے کا جواز باقی نہ رہے گا۔
اگر اللہ کی عظمت کو نہ پہچانا جائے تو عبادت و معرفتِ خداوندی کا حق ہی ادا نہیں ہوتا ۔
اسلام کا مطالبہ شرافت یہی ہے کہ جس کی اطاعت جبری ہو ،اس کی اطاعت اختیار کر لو اور اس طرح تمہارا جوہر انسانیت نمودار ہو جائے گا۔
دین حقیقت میں فطرت ہے اور اس کا ما حاصل محبت ۔گویا محبت کی اطاعتِ دین ہے اور اطاعتِ دین ہی محبت ہے۔
معرفت ،محبت کے بغیر بے معنی ہے، لیکن محبت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔
نفس در اصل نیت کا دوسرا نام ہے، اور مجاہدہ نفس نیت کی نیت کو استوار کرنے کا نام ہے۔
وقت سے پہلے اور نصیب کے بنا، نہ کچھ ہوتا ہے اور نہ ہی کچھ ہو سکتا ہے۔