لسلۂ عالیہ اوّل قادر قلندر کے دونوں بزرگان باباسائیں حسن الدینؒ اور حافظ سائیں محمد اقبال کی مشترکہ آخری آرام گاہ محلہ محمدی پورہ،عقب دربار مادھو لال حسینؒ،باغبان پورہ، لاہور ،پاکستان میں واقع ہے۔ دربار شریف شرقاً غرباً دو گنبدوں کی مخصوص نشانی سے واضح طور پر پہچانا جاسکتا ہے ،بلکہ اب لاہور شہر کے شمالی حصہ کی فضائی پہچان کا سب سے بڑا سبب ہے۔ شمالاً جنوباً تعمیر کئے گئے دو مینار دربار شریف کی خوبصورتی اور رعنائی میں اضافہ کا باعث بننے کے علاوہ دور سے اُس کی سمت کا تعین کرنے میں معاون ہوتے ہیں۔دو گنبدوں اور دو میناروں کی طرح دربا ر شریف کے دروازے بھی دو ہی رکھے گئے ہیں،مشرقی دروازہ باباسائیں ؒ کے نشان کی طرف ہے جب کہ شمالی دروازہ حافظ سائیں ؒکے تعویز کی نشاندہی کرتا ہے۔
باباسائیں حسن الدینؒ جب مستقل طور پر لاہور تشریف لے آئے تو علاقہ باغبان پورہ کی ایک مخیر شخصیت مہر چنن دین نے اپنی زرعی زمین میں سے ایک کنال رقبہ آپ کی رہائش کے لئے وقف کردیا۔ 1968 میں آپؒ کے پردہ فرمانے کے بعد اُن کا جسدِ خاکی اُسی احاطہ کے شمال مشرقی جانب سپردِ خاک کیاگیا۔33 برس بعد جب حافظ سائیں محمد اقبال ؒ بھی اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے تو اُن کو اُسی احاطہ کی مغربی سمت جگہ میسّر آئی۔یوں اُن دونوں ہستیوں کا ابدی سنگم اس شکل میں ہوا کہ اُن کے جسد ہائے خاکی اُسی قطعۂ زمین میں ہمیشہ کےلئے محفوظ ہوگئے،جہاں باباسائیںؒ نے اپنی زندگی کا آخری حصہ گزارا تھا۔عجب اتفاق ہے کہ علی الہجویری المعروف داتا غریب نوازؒ سے قریب ایک صدی بعد سلسلۂ عالیہ اوّل قادر قلندر کے یہ دونوں نمائندگان یکے بعد دیگرے لاہور میں مرجعٔ خلائق ہوئے۔
جن ساتھیوں نے حافظ سائیں محمد اقبالؒ کا زندگی بھر ساتھ نبھایا تھا ،انہوں نے آپ کے چہلم والے روزتجویز کیا کہ دونوں بزرگوں کے اُس سنگم کو اچھوتی اور یادگار شکل دی جائے۔جلد ملک کے نامور آرکیٹیکٹ کامل ممتاز خان صاحب سے رابطہ ہوا جنہوں نے مغل یا اسلامی طرزِ تعمیر کی نشاۃ ثانیہ کا ارادہ ظاہر کیا۔دوستوں کی رضامندی کے بعد کامل صاحب نےلاجواب ڈیزائن قرطاسِ ابیض پر منتقل کیا۔بالآخر 5 مئی 2002 کو دربار شریف کی باقاعدہ تعمیر کا کام شروع کیا گیا۔بنیادوں کی چوڑائی چھ فٹ ہے جب کہ تمام دیواریں تین فٹ موٹی ہیں۔عمارت کی تعمیر میں سیمنٹ،سریا اور ریت ہرگز استعمال نہیں کیے گئے،بلکہ اینٹ اور چونے وغیرہ سے دربار مکمل کیاگیا ہے۔چھتوں کی تیاری میں قالب نہیں ہوئے بلکہ اینٹ سے اینٹ جوڑ کر ہر چھت کو مختلف ڈیزائن دیا گیا ہے۔ازاں بعد دیواروں اور چھتوں پر نقش و نگاری کاکام شروع ہوا،جو مسلسل اٹھارہ برس گزرنے کے باوجود تاحال جاری ہے۔اس مقصد کے لئے آگرہ ، انڈیا سے خاص کاریگر منگوائے گئے جو نسل در نسل اس فن کے ماہرین تسلیم کیے جاتے ہیں۔حالانکہ نقش نگاری کاکام مزید کئی برس جاری رہنے کا امکان ہے مگر موجودہ حالت میں بھی دربار کی عمارت فنِ تعمیر سے شغف رکھنے والوں کےلئےعجوبہ کی مانندہے۔